چند سال پرانی بات ہے ۔لاہور سے میانوالی جاتے ہوئے بس میں سوار ہوا۔ بس درمیانے درجے کی تھی۔ رات کا وقت تھا ۔حسب عادت گاڑی اپنے مقررہ وقت سے لیٹ اپنے سٹینڈ سے چلی۔گاڑی کا ماحول اندھیری رات سے مختلف نہ تھا ۔
ایسے ماحول میں سو جانا آسان لگتا تھا لیکن کسی گہری سوچ میں ڈوب جانا میرا انتخاب تھا۔ سوچ گہری ہو یا سرسری اگر خوشگوار ہو تو چہرہ ایک حسین مسکراہٹ سے بھر جاتا ہے۔بچپن ،نوجوانی،اور پھر جوانی ساری زندگی اپنے ادوار کے ساتھ نگاہوں میں آ کھڑی ہوگئی۔
سفر ساتھ ساتھ طے ہوتا رہا اور اردگرد سے بے خبر اپنے بچپن کے دن یاد آنے لگے۔بچپن حرص اور ضد سے بھرا پڑا تھا۔ محبت کی حرص،میٹھی میٹھی رنگ برنگی گولیوں کی حرص اور نئے نئے کھلونوں کی حرص۔
بچے تھے والدین کی پریشانیوں سے بے خبر بس اپنی ضد پہ قائم رہنا۔
پھر بڑے ہوتے ہوئے والدین کی سرخ آنکھیں اور اداس چہرے آلام کا پتہ دینے لگے۔پڑھائی دل کی بجائے دماغ سے کرنے لگے۔وقت اب رکنے سے معذوری ظاہر کرتا اور ہم بچپن کی بےفکر زندگی کو یاد کرکے افسردہ ہوتے جاتے۔
سفر ابھی جاری تھا لیکن زندگی کا اور گاڑی میانوالی قریب از منزل ہوچکی تھی۔ میرے ساتھ بیٹھے صاحب بس کے عملہ کی طرف سے ملنے والے بسکٹ اور دیگر چیزیں دستی تھیلے میں ڈالنے لگے۔ پہلے پہل نظر پڑتے ہی مجھے عجیب سا لگا لیکن پھر ان صاحب کی توجہ میری طرف ہوئی اور گویا ہوئے کہ "میں تو کھاتا نہیں سوچا بچوں کے لیے لے جاتا ہوں "
میں نے بھی تائید میں سر ہلا دیا اور دل کی اصل کیفیت کو دبا دیا۔ آج اتنے عرصہ بعد ادراک ہوا کہ میں بھی بدل گیا ہوں۔
ہوا کچھ یوں کہ آج ایک نوجوان ( جو میرے پاس کام کرتا ہے) گھر سے بنی ہوئی ایک سوغات جو چاول پیس کر دیگر خشک میوہ جات کے ملاپ سے تیار کی گئی تھی،میرے لئے لایا ۔ میں نے چکھ کر دیکھا تو بہت بھلی لگی۔ دل کیا ساری کھا جاؤں لیکن اچانک ہی ایک خیال دل میں آیا اور میں نے یو ٹرن لے لیا۔ وہ اپنی بیٹی کے لیے رکھ دیا کہ شام گھر لے جاؤں گا۔
واقعی میں بدل گیا
ہم بدل گئے
سب بدل گئے
ہاں
اب بدل گئے
ایسے ماحول میں سو جانا آسان لگتا تھا لیکن کسی گہری سوچ میں ڈوب جانا میرا انتخاب تھا۔ سوچ گہری ہو یا سرسری اگر خوشگوار ہو تو چہرہ ایک حسین مسکراہٹ سے بھر جاتا ہے۔بچپن ،نوجوانی،اور پھر جوانی ساری زندگی اپنے ادوار کے ساتھ نگاہوں میں آ کھڑی ہوگئی۔
سفر ساتھ ساتھ طے ہوتا رہا اور اردگرد سے بے خبر اپنے بچپن کے دن یاد آنے لگے۔بچپن حرص اور ضد سے بھرا پڑا تھا۔ محبت کی حرص،میٹھی میٹھی رنگ برنگی گولیوں کی حرص اور نئے نئے کھلونوں کی حرص۔
بچے تھے والدین کی پریشانیوں سے بے خبر بس اپنی ضد پہ قائم رہنا۔
پھر بڑے ہوتے ہوئے والدین کی سرخ آنکھیں اور اداس چہرے آلام کا پتہ دینے لگے۔پڑھائی دل کی بجائے دماغ سے کرنے لگے۔وقت اب رکنے سے معذوری ظاہر کرتا اور ہم بچپن کی بےفکر زندگی کو یاد کرکے افسردہ ہوتے جاتے۔
سفر ابھی جاری تھا لیکن زندگی کا اور گاڑی میانوالی قریب از منزل ہوچکی تھی۔ میرے ساتھ بیٹھے صاحب بس کے عملہ کی طرف سے ملنے والے بسکٹ اور دیگر چیزیں دستی تھیلے میں ڈالنے لگے۔ پہلے پہل نظر پڑتے ہی مجھے عجیب سا لگا لیکن پھر ان صاحب کی توجہ میری طرف ہوئی اور گویا ہوئے کہ "میں تو کھاتا نہیں سوچا بچوں کے لیے لے جاتا ہوں "
میں نے بھی تائید میں سر ہلا دیا اور دل کی اصل کیفیت کو دبا دیا۔ آج اتنے عرصہ بعد ادراک ہوا کہ میں بھی بدل گیا ہوں۔
ہوا کچھ یوں کہ آج ایک نوجوان ( جو میرے پاس کام کرتا ہے) گھر سے بنی ہوئی ایک سوغات جو چاول پیس کر دیگر خشک میوہ جات کے ملاپ سے تیار کی گئی تھی،میرے لئے لایا ۔ میں نے چکھ کر دیکھا تو بہت بھلی لگی۔ دل کیا ساری کھا جاؤں لیکن اچانک ہی ایک خیال دل میں آیا اور میں نے یو ٹرن لے لیا۔ وہ اپنی بیٹی کے لیے رکھ دیا کہ شام گھر لے جاؤں گا۔
واقعی میں بدل گیا
ہم بدل گئے
سب بدل گئے
ہاں
اب بدل گئے

Very Nice Bhai
جواب دیںحذف کریںNice
جواب دیںحذف کریںBht acha likha hua hy bhaii 👌👌
جواب دیںحذف کریں